انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی آزادی کےلیے قربانی دی ہے اور آگے بھی دیتے رہیں گے ۔
بی ایل اے سربراہ نے مزید کہا کہ پاکستان آرمی کی ظلم و جبر ہمیں آزادی کی جدوجہد سے دستبردار نہیں کرسکے گا ۔
واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد سے پاکستان بھارت کے خلاف سیاسی و سفارتی سطح پہ سرگرم ہے، اور خود پاکستان کے اندر میڈیا میں اس موقف کو بار بار دہرایا جاتا ہے کہ کشمیر میں مسلح جدوجہد جائز ہے لیکن بلوچستان میں پاکستانی قبضے کے خلاف ہونے والے جدوجہد کو پاکستان دہشت گردی قرار دے رہا ہے ۔
دوسری جانب بھارت کشمیر کو اپنا اندرونی مسئلہ قرار دے کر امریکی صدر کی جانب سے ثالثی کی پیش کش تک کو مسترد کرچکا ہے۔
۔